Afleveringen
-
کہانی نمبر - ماہ نامہ حجاب
-
کہانی نمبر 2 - ماہ نامہ حجاب
-
Zijn er afleveringen die ontbreken?
-
کہانی نمبر ایک - ماہ نامہ حجاب
-
بچوں کو کہانیاں سنانا: تفریح بھی-تربیت بھی
-
بچوں کو کہانیاں سنانا: تفریح بھی-تربیت بھی
شمشاد حسین فلاحی
چھوٹے بچوں کو کہانیاں سننا بہت اچھا لگتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ والدین اس طریقے کو اپناکر اپنے بچوں کو بہت کچھ دے سکتے ہیں کیوں کہ یہ کہانیاں ان کےخیال، فکر، کردار اور شخصیت سازی میں بہت اہم رول ادا کرتی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بچوں کو اپنے انداز میں کہانیاں سنا کر ہم اپنی زندگی کے تجربات، اپنی سوچ وفکر، اپنی تمنائیں اور نظریات، اپنی دینی، تہذیبی اور معاشرتی و اخلاقی روایات کو اگلی نسلوں میں منتقل کرسکتے ہیں۔ کہانیاں سنانے کا یہ عمل والدین اور بچوں کے درمیان پیار و محبت اور جذباتی تعلق کو مضبوط بھی کرتا ہے اور ان کی فکر کو مضبوط و مستحکم اور شخصیت کو پراعتماد بناتا ہے۔
بدقسمتی سے اب بچوں کو کہانیاں سنانے کی روایت ہمارے سماج میں پہلے کم زور پڑی اور اب ختم ہوگئی۔ بچوں کو زندگی کا سلیقہ کون سکھائے، ان کے اخلاق و کردار کو کیسے بنایا اور سنوارا جائے اور اپنے علم و تجربے، زندگی کے اتار چڑھاؤ، مشکلات اور ان کا حل عائلی اور معاشرتی زندگی کی اقدار، سماجی تربیت اور زندگی کا سلیقہ وہ کیسے سیکھیں اور ان کا انٹرٹینمنٹ کیسے ہو؟ والدین کو ٹی وی، لیپ ٹاپ اور موبائل فون سے فرصت نہیں، بچوں کی تربیت کا خیال نہیں، ایسے میں وہ بھی انھی چیزوں میں دل بستگی اور انٹرٹینمنٹ تلاش کرتے ہیں۔ والدین اور اہلِ خانہ سے تعلق اور جذباتی وابستگی میں کمی آئی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ موجودہ دور کے والدین نئی نسل کے سلسلے میں بغاوت اور نافرمانی کی نہ صرف شکایت کرتے ہیں بلکہ عملاً اس کیفیت کو کسی نہ کسی صورت میں جھیلتے بھی ہیں۔ اگر ہم نے اپنی اس قدیم روایت کو جاری رکھا ہوتا تو ہم ان کی اخلاقی تربیت بھی کرپاتے اور اپنی دینی، اخلاقی، سماجی اور معاشرتی اقدار کو بھی ان میں بہتر انداز سے منتقل کرپاتے اور آج یہ کہنے کی نوبت نہ آتی کہ پرانے زمانے میں ایسا ہوتا تھا، ویسا ہوتا تھا اور ہم تو اپنے بچپن میں ایسے تھے اور یوں رہتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔